ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / باغیوں کا ٹرائل، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں:اردگان

باغیوں کا ٹرائل، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں:اردگان

Sun, 17 Jul 2016 17:27:42    S.O. News Service

امریکا سے فتح اللہ گولن کی ترکی حوالگی کامطالبہ

انقرہ،17جولائی؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ترک کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ منتخب اور آئینی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے اور جمہوریت پر شب خون مارنے والے باغی عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ملک کو ایسے عناصر سے پاک کرتے ہوئے انہیں ان کے گھروں اور خفیہ پناہ گاہوں سے ڈھونڈ کر نکالا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ باغیوں کے خلاف کارروائی آئین اور قانون کے دائرے کے اندر ہو گی کسی شخص کو اپنے طور پر باغیوں کے ٹرائل اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ استنبول میں کیسکلی کے مقام پر اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ کسی گروپ کو ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے یا متوازی حکومت چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ترکی ایک ہی ملک ہے اور اسے تقسیم کرنے کی ہر سازش کو پوری قوت سے کچلا جائے گا۔ انہوں نے عوام کویقین دلایا ملک موجودہ بحران سے جلد ہی نکل آئے گا۔اس موقع پر صدر کے حامیوں نے باغیوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تو صدر نے کہا کہ اس طرح کے امور کا فیصلہ پارلیمنٹ میں زیربحث آئے گا۔صدر اردگان نے کہا کہ منتخب حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والا فوج کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ اس موقع پر صدر اردگان پرسکون دکھائی دے رہے تھے اور ن کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ وہ انگلیوں سے اپنے حامیوں کے سامنے فتح کا نشان بھی بنا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہماری فوج فوج ہی ہے کسی متوازی حکومتی ڈھانچے کا آلہ کار نہیں۔ میں مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ امریکا میں بیٹھے فتح اللہ گولن جیسے لوگ ماضی میں بھی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کی سازشوں کو ہوا دینے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ہیں اور اب بھی ایسا کر رہے ہیں۔انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ فتح اللہ گولن کو ترک حکومت کے حوالے کرے تاکہ جمعہ کے روز حکومت کے خلاف کی جانے والی بغاوت کے حوالے سے ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔یاد رہے کہ صدر اردگان اور دیگر حکومتی عہدیداروں کی جانب سے جلا وطن لیڈر فتح اللہ گولن پرانقرہ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام عاید کیا گیا ہے تاہم مسٹر گولن اور ان کی جماعت نے حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔


Share: